انسان کا کمال کیا ہے؟ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اصل، بنیاد اور جڑ کیا ہے؟ کامیابی اور صلاح کیا ہے؟ وہ ہے ادب۔
نماز کی ادائیگی اپنی جگہ درست ہے، روزہ اور حج اپنی جگہ درست ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم جو اعمال کرتے ہیں، کیا وہ واقعی شریعتِ اسلام کے مطابق ہیں یا صرف ہماری عادات اور روایت بن چکے ہیں؟ ہر عمل کا ایک معنی ہے: ظاہر بھی اور باطن بھی۔ ان دونوں کو جاننا ضروری ہے۔
اتباعِ نبی ﷺ یہی ہے کہ عمل ظاہر اور باطن دونوں کے ساتھ ادا ہو۔ تبھی زندگی کی تکمیل ہوگی۔ اگر صرف ظاہر رہ جائے تو زندگی ناقص ہوگی، اور اگر صرف باطن رہ جائے تو بھی زندگی ناقص ہوگی۔ ظاہر شریعت ہے اور باطن اس کی حقیقت۔ اسی لیے انسان کی اصل کامیابی ادب میں ہے، اور ادب پوری زندگی کو محیط کرتا ہے۔
انسان کے تمام اعمال میں اگر ادب نہ ہو تو وہ عمل “عملِ صالح” نہیں بنتا۔ قرآنِ مجید میں بار بار عامل الصالحات کا ذکر آیا ہے، مگر ہم نے اسے صرف عبادات کی ادائیگی سمجھ لیا ہے۔ ہم اعمال کی شکل تو ادا کرتے ہیں—چاہے عمل کی صورت میں ہو یا کلام کی صورت میں—مگر اکثر معنی میں نہیں جاتے۔
عملِ صالحات کیا ہیں؟ قرآن نے بار بار سمجھایا ہے، مگر ہم دھیان نہیں دیتے۔ “صالح” کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے معاملات اچھی طرح، صحیح طریقے سے، لگن کے ساتھ، جزئیات کے ساتھ، مکمل صلاحیت کے ساتھ، عقل کے ساتھ، خوبصورتی کے ساتھ، اور بروقت ادا کیے جائیں۔ جب یہ کیفیت آئے گی تو شکرگزاری نصیب ہوگی، طبیعت میں ٹھہراؤ آئے گا اور اطمینانِ قلب ملے گا۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ یہ سب ضروری ہیں مگر یہ ابتدائی ہیں۔ ہم ساری زندگی انہی پر فوکس کرتے رہتے ہیں، مگر ان کے مقصد اور اعمالِ احسنہ کی طرف وہ توجہ نہیں دیتے جو اصل مطلوب ہے۔
