آپ ﷺ کی شان بیان سے باہر ہے۔ یہ بہت بڑی شان ہے جسے ہم اپنے دائرۂ عمل میں قید نہیں کر سکتے۔ چونکہ آپ ﷺ کی زندگیِ مبارک پر چلنا بسا اوقات محال ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ ﷺ نے نو یا گیارہ شادیاں کیں۔ ہم بحیثیتِ اُمت اس سنت کو اختیار نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو کفر میں چلے جائیں گے۔
اگر کسی غریب کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں اور وہ انہیں سی کر پہن رہا ہو، تو یہ عمل صرف غریب یا فقیر کا عمل نہیں رہتا۔ آپ ﷺ نے اس عمل کو شرف عطا فرمایا، کیونکہ آپ ﷺ نے غربت کو پسند فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے غربت کو اختیاری اپنایا؛ اضطراری نہیں، مجبوراً نہیں، بلکہ غربت کو شرف عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کپڑے سی کر پہنتے تھے، تاکہ جو کوئی کپڑے اس طرح سی کر پہنے، اس کے لیے بھی شرف اور سنت بن جائے۔
یعنی انسانی زندگی میں جو ضروریات ہیں، اور جو احکامات میں آئے ہیں، اور جو انسانی فائدے کے لیے ضروری ہیں—آپ ﷺ نے انسانی زندگی کے سب اعمال کو شرف فرمایا، تاکہ وہ سنت بن جائیں اور شرف حاصل ہو جائے۔
آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات کے مظہر ہیں۔ صفاتِ الٰہی جو ہیں، وہ صفاتِ محمدی بھی ہیں، کیونکہ آپ ﷺ مظہرِ ذات ہیں۔ جو مظہرِ ذات ہے، وہ صفاتِ ذات ہے۔ صفاتِ ذات مظہرِ کائنات ہیں۔
مظہرِ کائنات یعنی صفاتِ ذاتِ خداوندی کے ذکر کا بیان قرآنِ کریم میں آتا ہے کہ اگر سمندر پروردگار کی صفات لکھنے کے لیے سیاہی ہوں تو صفات ختم نہیں ہو سکتیں، اگرچہ ویسا ہی اور سمندر بھی ہو۔
(الکہف: 109)
