- By: admin
- Comments (0)
- Jan 27
صلوٰۃ / درود کی تین نسبتیں اور ان کا صحیح مفہوم
درود و صلوٰۃ کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک ہی عمل/لفظ جب مختلف نسبتوں کے ساتھ آتا ہے تو اس کا مفہوم بھی نسبت کے مطابق بدل جاتا ہے۔ اسی بنا پر اہلِ علم نے صلوٰۃ (درود) کی تین نسبتیں بیان کی ہیں:
اللہ تعالیٰ کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
ملائکہ کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
مؤمنین/بندوں کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
1) اللہ تعالیٰ کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
جب صلوٰۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی فضل، رحمت، کرم نوازی، اور رفعتِ درجات ہوتا ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرماتا ہے، ان کی شان کو بلند فرماتا ہے، ان کے ذکر کو بلند کرتا ہے اور ان کے مقام کو اُن کے شایانِ شان رفعت عطا فرماتا ہے۔
اسی لیے جب ہم کہتے ہیں:
اللّٰہم صلِّ علیٰ محمد ﷺ
تو اس کا خلاصہ مفہوم یہ ہوتا ہے:
اے اللہ! اپنے حبیب ﷺ پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرما، ان کے درجات بلند فرما، اور انہیں مقامِ محمود، مقامِ شفاعت اور عظیم مرتبہ عطا فرما۔
2) ملائکہ کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
جب صلوٰۃ کی نسبت فرشتوں (ملائکہ) کی طرف ہو تو اس کا معنی دعا، تائید، نصرت اور استغفار ہوتا ہے۔
یعنی ملائکہ حضور ﷺ کے حق میں دعائیں کرتے ہیں، اہلِ ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں، اور اللہ کے حکم کے مطابق خیر اور برکت کی دعا میں مشغول رہتے ہیں۔
یہاں “نفرت” یا کوئی منفی معنی مراد نہیں، بلکہ نصرت اور خیرخواہی مراد ہے۔
3) بندوں کی طرف صلوٰۃ کی نسبت
اور جب صلوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور التجا کرتا ہے کہ اللہ اپنے محبوب ﷺ پر رحمت نازل فرمائے، ان کا ذکر بلند فرمائے اور ان کی شان میں اضافہ فرمائے۔
یہ دراصل بندے کی طرف سے عاجزی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے:
“یا اللہ! میں خود کچھ دینے کی قدرت نہیں رکھتا، میں صرف تیرے فضل اور تیرے کرم کے ذریعے تیرے محبوب ﷺ کی شان میں اضافے کی دعا کرتا ہوں۔”
لغوی نکتہ: “قرب/ساتھ ہونا” مگر برابری نہیں
لغت کے اعتبار سے بعض اہلِ علم نے اس مفہوم کو مثال سے واضح کیا ہے کہ بعض نسبتوں میں “ساتھ ہونا” مراد ہوتا ہے، مگر برابری کے درجے میں نہیں۔
جیسے دو گھوڑوں کی مثال:
ایک گھوڑا آگے ہے (راہبر/پیش رو)
دوسرا اس کے قریب ہے مگر پیچھے ہے (تابع/پیرو)
یہ قرب اور ساتھ ہونا ہے، لیکن مرتبے کی برابری نہیں۔
اسی طرح بندہ جب درود پڑھتا ہے تو وہ حضور ﷺ کے مرتبے کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ تابع، محتاج اور امیدوار بن کر اللہ سے التجا کرتا ہے کہ اللہ اپنے محبوب ﷺ کے مقام کو مزید بلند فرمائے۔
درود پڑھنے والے کی اپنی حاجت بھی شامل ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ہم حضور ﷺ کے لیے مقامِ شفاعت کی بلندی کی دعا کرتے ہیں تو اس میں ہمارے لیے بھی خیر ہے، کیونکہ شفاعت تو گناہگاروں کے لیے ہوگی، اور بندہ خود بھی اللہ کی رحمت کا محتاج ہے۔
پس درود صرف حضور ﷺ کی شان بیان کرنا نہیں، بلکہ:
اپنی مغفرت کی امید
اللہ سے رحمت کی التجا
حضور ﷺ سے محبت اور وابستگی
کا جامع اظہار ہے۔
